05:45 , 16 مئی 2026
Watch Live

اسرائیل کا غزہ کے 60 فیصد علاقے پر کنٹرول کا دعویٰ

جنگ بندی

بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج اب غزہ کی پٹی کے 60 فیصد حصے پر کنٹرول حاصل کر چکی ہیں۔ اس بیان کے بعد جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ مزید برآں یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ میں مسلسل تشدد جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج جنگ بندی منصوبے میں طے شدہ حدود سے آگے بڑھ چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج نے غزہ کے مزید علاقوں میں پیش قدمی کی ہے۔ نتیجتاً خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں میں اسرائیل نے اپنی ریاست، فوج اور قومی طاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل اپنے تمام یرغمالیوں کو واپس لے آیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے غزہ سے انخلا کے مطالبات کو بھی مسترد کردیا۔

نیتن یاہو نے مزید کہا کہ بعض لوگ چاہتے تھے کہ اسرائیل غزہ چھوڑ دے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق اسرائیلی افواج اب غزہ کے 60 فیصد علاقے پر قابض ہیں۔ لہٰذا ان کا بیان اسرائیلی فوجی دائرہ کار میں توسیع کا واضح سرکاری اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل کا غزہ میں حماس کمانڈر عزالدین الحداد کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے تحت اسرائیلی افواج کو ایک مخصوص “ییلو لائن” تک محدود رہنا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق اسرائیل کو غزہ کے نصف سے کچھ زائد علاقے تک رسائی حاصل تھی۔ تاہم حالیہ میڈیا رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیلی فوج ایک نئی “اورنج لائن” کی جانب بڑھ رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق اس تازہ دعوے سے جنگ بندی مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔ آخر میں کہا جا رہا ہے کہ اسرائیل کا غزہ کے 60 فیصد علاقے پر کنٹرول کا دعویٰ خطے میں امن کوششوں اور جنگ بندی کے مستقبل پر نئے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
اہم خبریں۔
ضرور دیکھیں
INNOVATION